’’پاگل پن‘‘مجھے شک ہوا کی ٹیکسی میں کیمرہ لگا ہوا

خصوصی فیچرز

ایک دن میں ایک ٹیکسی میں سوار ہوا اور اس کے ڈرائیور نے مجھے ایسا قیمتی سبق دیا جو مجھے بڑے بڑے سیمیناروں میں کبھی کسی معروف سپیکر سے حاصل نہیں ہوا تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت سے موٹیویشنل سیمینا ر اٹینڈ کیے تھے اور ان پر بہت سا پیسا بھی خرچ کیا تھا لیکن کل ملا کر بارہ ڈالر میں میں نے ایسا سبق ایک ٹیکسی والے سے سیکھا کہ میں دم بخود رہ گیا۔ جب وہ رکا تو میرے بیٹھنے سے پہلے، اس نے باہر نکل کر ایک مودب ڈرائیور کی طرح دروازہ کھولا۔ میں بیٹھا

تو وہ بھی آگے اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا اور اس نے مجھے مخاطب کیا کہ سر پلیز آپ کے ساتھ وال سٹریٹ جرنل رکھا ہوا ہے ۔ آپ اگر مطالعہ کرنا چاہتے ہوں تو۔ میں نے دیکھا تو بالکل صفائی سے تہہ ہوا وا ایک اخبار پڑا تھا۔ میں نے اٹھایا۔ اس نے بولا کہ اگر آپ کہیں تو میں آپ کی مرضی کا میوزک چلا دوں۔میں نے اس سے پوچھا کہ کہیں یہ ’کینڈڈ کیمرہ‘ پروگرام کا کوئی حصہ تو نہیں۔ کہیں وہ مجھے بے وقوف تو نہیں بنا رہا تھا؟ میں نیو یارک میں بہت دفعہ ٹیکسی سے سفر کرتا تھا اور کبھی کسی نے اتنا رائل ٹریٹمنٹ نہیں دیا تھا۔

میں نے پھر پوچھا کہ کیمرہ کدھر چھپایا ہوا ہے؟ وہ ہنسنے لگا اور بولا کہ سر میں در اصل کارپوریٹ سیکٹر میں دس سال جاب کرتا رہا ہوں اور اب ادھر سے تنگ آ کر میں نے اپنی ساری زندگی کی بچت سے یہ ٹیکسی خریدی ہے اور میں اپنے ہر کسٹمر کے ساتھ اسی طرح کے اخلاص سے پیش آتا ہوں۔ میں حیران ہوا۔ میں نے پوچھا کہ تم نے کارپوریٹ سیکٹر کیوں چھوڑا؟ وہ تو پیسے ہی پیسے ہیں اور کوئی بے وقوف ہی اتنا عزت والا کام چھوڑ کر ایسے کام کا انتخاب کرے گا۔ اس نے بتایا کہ کارپوریٹ سیکٹر کی ایک ہی پالیسی ہے کہ جتنا کر لیا اتنا ہی کم ہے۔ جتنا اچھا کر لیا اتنا ہی اور بہتر کرو۔

اس نے بولا کہ میں نے سیکھا کہ پیسے تو کسی بھی طرح سے کمائے جا سکتے ہیں بس انسان یہ نہیں دیکھتا کہ اس کو سکون اور آسانی سے کیسے کمایا جا سکتا ہے۔ میں ہر روز یہی کام کرتا ہوں اور میں بڑے مزے آرام اور سکون سے پیسے کما رہا ہوں۔ میں نے کبھی کسی مہنگے سیمینار سے اتنا کام کا سبق نہیں سیکھا تھا۔ میں نے اس کو بارہ ڈالر دیے اور اس کا دل سے شکریہ ادا کر کے چلتا بنا۔ میں بے اس کو اس کے بارہ ڈالر کے علاوہ بھاری بھرکم ٹپ بھی دی کیونکہ میرا یہ سفر بہت اچھا گزرا تھا اور مجھے یقین ہے کہ اس کے تمام کسٹمر ہی اس کے ساتھ سفر کر کے خوش ہوتے ہوں گے۔

دوستایک لڑکے کے بہت زیادہ دوست تھے‘ وہ ہر وقت دوستوں کے ساتھ گھومتا پھرتا رتا اور کام کاج نہیں کرتاتھا‘ زندگی ضائع کر رہا تھا‘ ا س والد کو اس کی بڑی فکر تھی‘ کئی بار سمجھایا لیکن فائدہ نہیں ہوا‘ ایک دن باپ نے کہا تم اپنے ہر دوست کے پاس چلو اور کہو کہ اچانک مجھے اتنی رقم کی ضرورت پڑ گئی ہے‘ یہ دونوں باپ بیٹا ہر ایک کے پاس گئے‘ ہر ایک نے معذرت کی اور کوئی نہ کوئی بہانہ کیا‘ اب باپ نے کہا‘ میرا ایک ہی دوست ہے‘ اب اس کے پاس چلتے ہیں‘ تم اس کا اخلاق دیکھنا‘

باپ بیٹا دونوں اس کے گھر پہنچے‘ دروازہ کھٹکھٹایا‘ غلام باہر نکلا‘ آدمی نے کہا کہ کہو تمہارا دوست آیا ہے‘کافی دیر ہوگئی لیکن آدمی باہر ہی نہیں نکلا‘ لڑکے نے کہا ‘ابا جان میرے دوست باہر تو آئے تھے‘ملاقات تو کی تھی آپ کا دوست تو باہر آنا بھی گوارا نہیں کر رہا‘ آدمی نے کہا بیٹا تھوڑی دیر صبر کرو‘ کافی دیر کے بعد وہ آدمی باہر نکلا‘ اس کے ایک ہاتھ میں ننگی تلوار تھی‘ دوسرے ہاتھ میں ایک اشرفیوں کی تھیلی تھی‘ آدمی نے آتے ہی معذرت کی اور کہا کہ دیر اس لئے ہو گئی کہ غلام نے بتایا کہ آپ کا دوست آیا ہے اور اس کا لڑکا بھی ساتھ ہے‘ میں نے سوچا میرا دوست رات کے اس وقت کبھی میرے پاس نہیں آیا‘ آج شاید کوئی خاص کام ہے‘

اگر تو رقم کی ضرورت ہے تو گھر میں جو کچھ موجود تھا وہ میں لے کر آیا ہوں‘ اگر کسی سے لڑائی جھگڑا ہو گیا ہے تو میں تمہارے ساتھ جانے کو تیار ہوں‘ بیٹے کو ساتھ لائے ہو اگر اس کی شادی کا ارادہ ہے تو میں اپنی بیٹی کو دلہن بنا کر آیا ہوں تم کہو تو ابھی نکاح کر دوں‘ لڑکا اس آدمی کے حسن اخلاق پر حیران رہ گیا‘ باپ نے کہا‘ دیکھا بیٹا میرا ایک ہی دوست ہے اور کام کا ہے‘ تمہارے بہت سارے دوست کسی کام کے نہیں‘ لڑکے کو بہت سمجھ آ گئی‘ اس نے سب لڑکوں سے دوستی ختم کر دی‘ کام کاج شروع کر دیا‘ ہر معاملے میں باپ کا حکم ماننے لگا۔ بڑے بزرگوں نے صحیح کہا ہے کہ دوست ہزار ہوں مگر مشکل وقت میں کوئی کام نہیں آئے تو کوئی فائدہ نہیں لیکن اگر دوست ایک ہے اور وہ ہر مشکل وقت میں آپ کے ساتھ ہو تو ایک ہی کافی ہے۔

کلک ٹو کمنٹ ‎

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

تازہ ترین‎

اوپر