یار وہ امریکہ والی بی بی ہوگی

خصوصی فیچرز

یہ دسمبر کا مہینہ تھا۔ اس دن میں لندن سے واپس پاکستان آ رہا تھا۔گجرات کے قریب ہی میرا قصبہ ہے، میری فلائٹ اسلام آباد پہنچی تو اس وقت سہہ پہر ہو چکی تھی۔ میں نے ایک نجی ٹیکسی والے سے بات کی تو اس نے بہت زیادہ پیسے مانگ لئے۔ اتفاق سے ایک خاتون بھی وہاں کھڑی تھی۔ وہ لالہ موسٰی کے پاس جانا چاہتی تھی،کرایہ کم کرانے کا یہ طریقہ بہتر تھا کہ ہم دونوں ٹیکسی اکٹھے کرا لیتے اور اس بات پر ٹیکسی والا متفق تھا بلکہ وہ خاتون بھی زیادہ کرایہ کی وجہ سے مجھ سے پہلے

اس سے بات کر چکی تھی۔خاتون کا نام شمائلہ تھا، عمر کوئی چالیس سال کے قریب اور رنگت سانولی، بال شولڈر۔ نفیس عورت تھی۔ اس کے بقول وہ امریکہ سے آئی تھی اور اس سے پہلے بھی اسی طرح اکیلی سفر کرنے کی عادی تھی۔ وہ پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی اور میں فرنٹ سیٹ پر۔ راستے بھر ہمارے درمیان کوئی ایسی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔ ویسے بھی میں باتونی نہیں ہوں اور مجھے خاموش رہنا زیادہ پسند ہے۔ جب ہم کھاریاں پہنچنے والے تھے اس نے ایک پیٹرول پمپ کے پاس سے بائیں جانب جانے والی ایک سڑک کی طرف اشارہ کیا ’’میرا گھر اس جانب ہے‘‘۔ ’’میڈم آپ نے تو کھاریاں جانے کا کہا تھا،

ادھر کہاں جانا ہے اب جبکہ رات ہو رہی ہے‘‘۔ ڈرائیور نے کہا ’’یہ کھاریاں ہی ہے۔ یہاں سے دور نہیں جانا ہمیں‘‘ اس نے کہا۔ ڈرائیور نے منہ بنا کر کن آکھیوں سے میری طرف دیکھا اور مجھے سمجھ آ گئی کہ وہ ناگوار کیوں ہو رہا ہے کیونکہ جس سڑک پر اس نے گاڑی موڑی تھی وہ کچا پکا راستہ تھا، پہاڑی ڈھلوانوں کو طے کرتے ہوئے وہ گاڑی احتیاط سے چلا رہا تھا لیکن ابھی تک کسی آبادی کا نشان تک نہیں مل رہا تھا۔ ڈرائیور کے علاوہ اب میں بھی پریشان ہوگیا لیکن وہ خاتون بڑی مطمئن تھی اور منہ میں چیونگم چبا رہی تھی’’کتنی دور ہے میڈم‘‘ میں نے پوچھا تو بولی’’بس آیا ہی چاہتا ہے‘‘۔ یونہی کوئی دس کلومیٹر بعد ایک گاؤں آیا اور وہ کرایہ ادا کرکے اتر گئی۔میں نے ڈرائیور سے کہا ’’اب میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ جاتا ہوں‘‘ سفر کی تھکن پہلے ہی تھی،

اب تو اس کچے پہاڑی راستے کی وجہ سے میرے اینجر پنجر حل گئے تھے۔ میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا اور تھکن کی وجہ سے سوگیا۔ اچانک ایک زور دار جھٹکے سے آنکھ کھلی۔ دیکھا کہ ڈرائیور پریشان ہے اور گاڑی سے اتر رہا ہے۔ ’’کیا ہوا؟‘‘ میں نے پوچھا اور مجھے اندازہ ہوگیا کہ ہم ابھی تک اسی کچے پر ہیں۔ ’’سر وہ۔۔۔‘‘ وہ ہکلا کر بولا اور گاڑی کے سامنے اور آگے پیچھے دیکھنے لگا۔ سخت پریشان نظر آ رہا تھا ’’سر وہ میڈم اچانک گاڑی کے سامنے آ گئی تھی اور ٹکر لگنے کے بعد کہاں گئی ہے، وہ دیکھ رہا ہوں‘‘۔’’کیا مطلب؟۔ادھر تو کوئی نظر نہیں آ رہا‘‘ میں نے ہیڈ لائٹس کی روشنی میں دیکھا لیکن کوئی انسان تو کیا کوئی جانور بھی ایسا نظر نہیں آ رہا تھا جو گاڑی سے ٹکرایا ہو۔ ’’آپ کو نیند کا جھونکا آ گیا ہوگا‘‘ میں نے کہا تو وہ گاڑی کے بونٹ کی طرف اشارہ کرکے بولا ’’وہ دیکھیں‘‘ گاڑی کا بونٹ پچکا ہوا تھا اور اس پر کوئی اور نشان نہیں تھا سوائے ایک مسلے ہوئے چیونگم کے۔

۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا کوئی گاڑی سے ٹکرایا ہے لیکن ہم دونوں نے گاڑی سے پچاس پچاس میٹر تک تفصیلی طور پر ڈھونڈ لیا لیکن ہمیں کوئی زخمی یا مردہ خاتون نظر نہیں آئی۔ ’’چلو یار۔اللہ جانے کون تھی؟‘‘میں نے اسے تسلی دی۔ وہ بدستور پریشان تھا۔’’اب کیا کرسکتے ہیں،گاڑی کے ڈینٹ کا خرچہ میں دے دوں گا، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں‘‘۔ ’’سر میری پریشانی کی وجہ یہ نہیں کہ گاڑی کا نقصان ہوگیا ہے، میں اس بات پر پریشان ہوں کہ اس میڈم کو تو ہم اس کے گاؤں میں اتار کرآئے تھے، وہ یہاں کیسے واپس آ سکتی تھی‘‘۔ ڈرائیورکی بات سن کر میں چونکا۔ ’’ناں کر یار۔۔۔ کوئی اور ہوگی، تمہیں مغالطہ ہواہے‘‘۔

’’اللہ کی قسم وہی تھی۔ روشنی میں اس کا پورا چہرہ دیکھا ہے،کیسے بھول سکتا ہوں‘‘۔ میں اب اس بات پر کیا کہہ سکتا تھا۔ خیر اس شش وپنج میں ہم جی ٹی روڈ تک پہنچے اور پٹرول پمپ کے ساتھ ہی بنے ہوئے ایک ہوٹل میں رک کر چائے پینے لگے۔ڈرائیور نے ہوٹل والے سے اس بات کا ذکر کر دیا۔ میں اسے روکتا ہی رہ گیا تھا کہ خدانخواستہ اگر واقعی کوئی اس کی گاڑی سے ٹکرایا تھا تو پولیس ہم کو دھر سکتی تھی اور میں اس عذاب میں نہیں پڑنا چاہتا تھا۔ ہوٹل والے نے ڈرائیور کی بات سنی اور بڑی عجیب بات بتائی ’’یار وہ امریکہ والی بی بی ہوگی‘‘۔ میں تو ایسے کرسی سے اچھلا جیسے منوں بارود پھٹ گیا ہو میری سیٹ کے نیچے، یہی حال ڈرائیور کا تھا۔ ’’دو ماہ پہلے وہ بے چاری اکیلی امریکہ سے آئی تھی لیکن کسی کم بخت نے اس کو گاؤں تک پہنچانے کی بجائے پہاڑیوں کے ویرانے میں عزت لوٹ کر قتل کر دیا تھا۔ اس کے قاتل نہیں پکڑے گئے۔ آپ پانچویں فرد ہیں جن کے ساتھ یہ واقعہ پیش آچکا ہے اور سب لوگوں کو یہ کہانی معلوم ہے۔ اللہ اس کی روح کو قرار دے اور دعا کریں اس کے قاتل پکڑے جائیں‘‘۔ اس کے بعد کا سفر ہم دونوں نے کیسے طے کیا، یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ میں آج تک اس واقعہ کو نہیں بھول سکا اور اب کبھی پاکستان واپس آتا ہوں تو کسی اور کے ساتھ گاڑی شئیر نہیں کرتا۔

کلک ٹو کمنٹ ‎

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

تازہ ترین‎

اوپر