شاطر جاسوس

خصوصی فیچرز

جاسوسی کی تاریخ میں چین کے ایک جاسوس کا قصہ خصوصی مقام رکھتا ہے جس نے اپنی حیرت انگیز فنکاری سے ایک فرانسیسی سفارتکار کے سامنے خود کو خاتون بنا کر پیش کیا اور کئی سال تک اس کی بیوی بنا رہا، حتیٰ کہ ایک بچے کو جنم دینے کا کامیاب ڈرامہ بھی کیا۔ شوہ نامی چینی شخص موسیقی اور رقص کا ماہر تھا اور فرانسیسی سفارتکار ورناڈ بوسیکاٹ کے ساتھ اس کا معاشقہ 1960ءکی دہائی میں شروع ہوا۔

ند ملاقاتوں کے دوران ہی فرانسیسی سفارتکار چینی جاسوس کے حسن کا اسیر ہوگیا۔شوہ ہر وقت زنانہحلیہ اختیار کئے رکھتا اور خوبصورت لباس اورمیک اپ کا استعمال کرتا جس کی وجہ سے وہ بظاہر ایک دلکش دوشیزہ نظر آتا تھا۔ جب دنوں کی قربت بڑھی تو شوہ نے برناڈ کو بتایا کہ اس کی پیدائش ایک لڑکی کے طورطور پر ہوئی تھی لیکن چونکہ اس کے والدین کی نرینہ اولاد نہ تھی لہٰذا انہوں نے اسے لڑکوں کی طرح پالنا شروع کردیا۔ اس نے بتایا کہ بعد ازاں اسے ہارمون بھی دئیے گئے جس کی وجہ سے اس کے جسم میں کچھ مردانہ خصوصیات پیداہوگئیں لیکن اصل میں وہ عورت ہی تھا۔

بے وقوف فرانسیسی سفارتکار نے اس کہانی پر یقین کرلیا اور دونوں کا معاشقہ کئی سال تک چلتا رہا۔ اسی دوران شوہ نے برناڈ کو بتایا کہ وہ حاملہ ہو’گئی‘ تھی اور جب برناڈ فرانس میں تھا تو اس نے پیغام بھیجا کہ اس کے ہاں ایک بیٹے کی ولادت ہوئی ہے۔ جب کچھ ماہ بعد برناڈ واپس آیا تو شوہ نے بتایا کہ چین میں خانہ جنگی کی وجہ سے اس نے بچے کو روس کی سرحد کے قریب ایک دور دراز گاﺅں بھیج دیا تھا۔ برناڈ اپنی سفارتی ذمہ داریوں کی وجہ سے فرانس اور پھر منگولیا چلا گیا اور کچھ سال بعد واپس چین آیا تو شوہ نے اسے ایک بچے سے ملوایا اور بتایا کہ یہ ان کا بیٹا تھا۔ اس سارے عرصے کے دوران شوہ فرانسیسی سفارتکاری کی اہم معلومات برناڈ سے حاصل کرتا رہا اور فرانس کے دورے کے دوران دو مزید سفارتکاروں کے ساتھ تعلقات بڑھا کر قیمتی دستاویزات چوری کیں اور چین بھیج دیں۔فرانس میں جب اس کے بارے میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں تو بالآخر اسے گرفتار کرلیا گیا اور عدالت نے اس کے طبی معائنے کا حکم دے دیا جس میں ثابت ہوا کہ وہ مرد ہے۔ برناڈ نے جب یہ خبر سنی تو اپنے گلے پر تیز دھار بلیڈ پھیر کر خودکشی کرلی۔

کلک ٹو کمنٹ ‎

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

تازہ ترین‎

اوپر