مشہور اداکارہ اشنا شاہ کا ڈاکٹر ماہا علی کیس سے کیا تعلق ہے؟ ڈاکٹر ماہا علی کے کزن کا حیران کن انکشاف

سوشل میڈیا‎

اسلام آباد،کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی) ڈاکٹر ماہاعلی کیس میں ڈرامائی موڑ، اپنی فیس بک پوسٹ میں ڈاکٹر ماہا علی کے کزن کمیل نے انکشاف کیا ہے کہ اشنا شاہ قاتل جنید اور عرفان دونوں کی حفاظت کررہی ہے۔ کمیل نے مزید لکھا ہے کہ ڈاکٹر ماہا علی اپنے آپ کو جنید سے دور کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اس نے اسے جانے نہیں دیا۔

جنید اور اس کے دوست ڈاکٹر عرفان قریشی دونوں کا نام فیشن بلاگر کے اہل خانہ نے ایف آئی آر میں درج کرایا۔کمیل نے مزید کہا کہ اشنا شاہ جنید اور عرفان دونوں کی حفاظت کررہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جنید نے ڈاکٹر ماہا علی کی ایم ایل او رپورٹ ٹیمپرڈ کی ۔ اشنا نے غمزدہ کنبے پر الزام لگانے کیلئے گولی کے زخم کی داستان کو سر کے پچھلے حصے پر دھکیل دیا۔ ان کا خیال ہے کہ اشنا ڈاکٹرماہا علی کے خاندان کی قیمت پر اپنے دوستوں کی حفاظت کر رہی تھی۔ڈاکٹر ماہا علی کی خودکشی کے بعد اشنا شاہ نے متاثر ہ خاندان پر آنر کلنگ کا الزام عائد کیا اور مزید تحقیقات کا مطالبہ کیاتھا۔ ذرائع کے مطابق اشنا جنید خان کی قریبی اور دیرینہ دوست ہے۔کمیل نے ڈاکٹر عرفان قریشی پر بھی الزام عائد کیا اور کہا وہ ایک سیریل ریپسٹ ہے اور اس نے ڈاکٹر ماہا علی کی خودکشی میں حصہ لیا ہے۔دوسری جانب ڈاکٹر ماہا شاہ کے والد آصف شاہ نے ماہاکی خودکشی کا ذمہ دار اسپتال میں کام کرنے والے جنید کو قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ جنید ماہا کو بلیک میل کرتا رہا اس نے میری بیٹی کو جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا،جنید کا ایک مکمل گینگ ہے،اس کے گینگ میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں،ڈاکٹر عرفان کا جہاں کلینک ہے اس کے اوپر بار موجود ہے۔

جہاں منشیات کا کھلے عام استعمال کیا جاتا ہے،میرے پاس ان کے خلاف بہت سارا مواد ہے۔اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے آصف شاہ نے کہاکہ سب سے پہلے اسپتال میں وقاص نامی شخص آیا جو ٹیکنیشن تھااس کے بعد ایک جنید نامی نوجوان آیا۔

وقاص اور جنید نے ڈاکٹرز سے مل کر ایم ایل او تبدیل کروایا۔انہوں نے کہاکہ ہم صدمے میں تھے اور گائوں چلے گئے۔ہم اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھے۔میں نے اپنی بیٹی کو نوکری کر کے پڑھایا۔میں پیر ہوں وڈیرا ہوں اس پر مجھے فخر ہے۔انہوں نے کہاکہ میرا تعلق پڑھی لکھی فیملی سے ہے۔

میرے دادا کے کلاس فیلوز تواکبر بگٹی اور سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو تھے۔انہوں نے بتایاکہ حادثہ سے چار روز قبل میں اپنی بیٹی کو اسپتال چھوڑ کر گیا۔میری بیٹی کو بلیک میل کیا جا ریا تھا۔میری بیٹی چلی گئی مگر لوگ اپنی بیٹیوں کو جنید جیسے لوگوں سے بچائیں۔

میری بیٹی کو جنید نے بلیک میں کیا۔جنید نے میری بیٹی کا برا حال کیا۔جنید نے میری بیٹی کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔میری بیٹی کے ساتھ جو ہوا اس نے اپنی فرینڈز کے ساتھ شیئر کیا۔انہوں نے کہاکہ پولیس نے سب کچھ سامنے ہونے کے باوحود جنید کو گرفتار نہیں کیا۔

جنید نے چار سالہ تعلقات میں میری بیٹی کا استحصال کیا۔میں عدلیہ اور پولیس سے کہوں گا کہ انصاف کریں۔انہوں نے بتایاکہ تابش نے پستول دی،جنید نے تشدد کیا۔عرفان اور جنید میںبھی رابطہ ہوسکتا ہے۔آگے جو بھی نکلا دیکھتا ہوںبغیر ثبوت کسی کا نام نہیں لونگا۔

آصف شاہ نے کہاکہ بیٹی نے بتایا کہ ایک دوست ہے مہوش وہ بوتیک کا کررہی تھی اس نے کہاہے کہ تم ماڈلنگ کرومیری بیٹی کو اس طرح سے ٹریپ کیا،بچوں کو پڑھائی میں نیند آتی ہے یہ لوگ نیند کیلیے منشیات دیتے ہیں۔ایک بچی کے ساتھ کیا کردیا کہ اس نے خود کو گولی ماری۔

انہوں نے کہاکہ اگر مجھے انصاف نا ملا تو میں اپنے گائوں جا کر بیٹھ جائوں گا۔برسات اور محرم کی وجہ سے میں پولیس کے مسائل سمجھ سکتا ہوں۔میڈیا ہر مجھ کو اعتماد ہے اس کے سامنے حقائق رکھوں گا۔ان لوگوں نے میری بیٹی کو ٹریپ کیا۔یہ لوگ منشیات کا کام

تعلیمی اداروں میں کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر ماہا کا اتنے روز سے میڈیا پر چل رہاتھاکہ میری بیٹی نے خود کشی کیوں کی۔ڈاکٹر ماہا کے حوالے سے والدین کے ساتھ ناراضگی کا کہا جا رہا تھا۔،انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر ماہا کے حوالے سے کسی کو سامنے نہیں لائوں گا

میں اکیلا قانونی جنگ لڑوں گامیں وزیر اعلی سندھ اور اعلی حکام سے کہوں گا اس بات کا نوٹس لیں۔میرا گائوں درگاہ گرورہ شریف ہے۔گائوں سے میرپور بچوں کو پڑھنے بھیجتا تھا۔کراچی میں بچی کو میڈیکل میں داخلہ کرایااگر اتنا امیر ہوتا تو کراچی میں کرائے کے گھر پر نہیں رہتا۔

انہوں نے کہاکہ رشتے وغیرہ سے متعلق کوئی بات کبھی جنید نے نہیں کی۔ماہاکے والد نے کہاکہ کوئی بچی ایسے پھنسی ہے تو مجھ سے رابطہ کرے۔میں اس بچی کے والدین سے بات کرونگایہ لوگ ایک گولی مارنے سے زیادہ کیا کریں گے۔بچوں کے والدین کو کہوںگا کہ بچوں کی غلطی معاف کریں اور علاج کرائیں۔

کلک ٹو کمنٹ ‎

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

تازہ ترین‎

اوپر